میں حاضر ہوں !
ٰاردو جہاں سے امر )حکم( آیا ہے کہ ایک پشتو گیت کے بول اور ترجمہ چاہیئے ۔ میں اسے اردو جہاں پر بھی پوسٹ کردیا ہے اور یہاں بھی پوسٹ کردیتا ہوں امید ہے کسی کو اعتراض نہیں ہوگا ۔ لیجئے ترجمہ مع پشتو سکرپٹ :
پیخور خو پیخور دے کنہ ! پشاور ، ارے پشاور کا کیا کہنا !
منم خائستہ خائستہ خارونہ شتہ دے ۔ خو دے پہ ٹولو باندے بر دے کنہ !
مانتا ہوں کہ خوبصورت سے خوبصورت شہر موجود ہیں مگر یہ شھر )پشاور( ، سب پر بالا ہے
د ھر زائے خپل خوندونہ ، خپلے مزے خو پیخور خو پیخور دے کنہ !
بجا کہ ہرجگہ کی اپنی خوبیاں اور خوبصورتی ہوتی ہے مگر پشاور وہ شھر ہے جس کا کوئی جواب نہیں ۔
سنگہ چہ خار داسے ئے نوم خکلے دے ، پہ سڑی لگی د اشنا پہ شانے
جس طرح یہ شہر خوبصورت ہے تو اسی طرح اس کا نام بھی دلربا ہے اور بالکل اپنے محبوب کی طرح محسوس ہوتا ہے
دلتہ بوڈا خکلے ، ماشوم خکلے دے ، پیغلے ئے ننگ لری د زوان پہ شانے
یہاں کے بوڑھے اور بچے خوبصورت ہیں اور یہاں کی دوشیزائیں جوان مردوں کی طرح بہادر ہوتی ہیں
د ملاکنڈ پہ شانے دنگے غڑے ؛ د ھر زلمی زڑہ ئے خیبر دے کنہ !
ان دوشیزائوں کے گردن مالاکنڈ پہاڑ کی طرح بلند اور یہاں کے ہر جوان کا دل خیبر (کے پہاڑوں ( کی طرح مضبوط ۔
چہ پختانے سنگار یدل اوغواڑی ؛ د پیخور نہ قمیص تور غواڑی
پختون دویشزائیں اپنے بنائو سنگار کے لئے اور اپنے حسن میں اضافے کے لئے پشاور کے کالی قمیص کی طالبگار ہرتی ہیں ) “اپنے عیسیٰ خیلوں کی قیمص تیری کالی مدنظر رکھیئے“
د خپل جانان نہ چہ تحفہ اغواڑی : د خار گلولونہ درے ثلور غواڑی
اور جب کبھی اپنے محبوب سے تحفہ چاہتی ہیں تو یہ پشاور کے چند پھولوں کا مطالبہ ہوتا ہے ۔
چہ خورو تہ ھم خائست زیاتوی : د حسن داسے جادوگر دے کنہ !
یہ شھر حسن کا ایسا جادوگر ہے کہ اگر خور جنت بھی کبھی ادھر آنکلے تو اس کا حسن بھی دوبالا ہوجائے ۔ یعنی اس کے حسن میں اضافہ ہوجائے
۔ لکہ سڑی گلونہ ڈیر اوینی ؛ خو د دلبر مینہ پرے نہ ماتیگی داسے کہ سوک خارونہ ڈیر اوینی ؛ د پیخور تندہ پرے نہ ماتیگی
چاہے آدمی دنیا جہاں کے شہر دیکھ لے مگر پشاور کی محبت کی پیاس نہیں بھجتی اور یہ ایسا ہی کہ آدمی بہت سے خوبصورت اور خوش نما پھول دیکھنے کے بعد بھی اپنا دلبر کے محبت کا پیاسا ہوتا ہے ۔
ھر یو سحر ئے د گلونو سحر ؛ خو مازیگر ئے مازیگر دے کنہ !
اس شہر بے مثال کی صبح ، پھولوں کی صبح کہلاتی ہے ولیکن اس کا وقت عصر بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے “یہ تو میرا ذاتی تجربہ ہے کہ غروب آفتاب کے فورا بعد اگر آپ پشاور کے کھلی فضا میں نکلیں تو عجیب سی مستی اور سرور کا احساس ہوتا ہے جسے الفاظ میں سمیٹنا مشکل ہے مگر شاعر نے اچھی کوشش کی ہے“
زما نہ چرے ھیریدلے نہ شی ؛ ھم دے زما ، ھم د جانان پیخور
میں اسے کسی طور بھلا نہیں سکتا کیونکہ یہ میرا بھی شھر ہے اور میرے محبوب کا بھی ۔
پردی خارونہ مے خوڑلے نہ شی ؛ کور دے زمونگہ د ارمان پیخور
پرائے شھر ہمیں ہضم نہیں کر پائیں گے کیونکہ ہمارے ارمانوں کا مرکز پشاور ہی ہے ۔
کہ د لوگو اور د شورہ نہ ڈک دے ؛ خو زمونگ زڑہ ، زمونگ زیگر دے کنہ !
کیا ہوا کہ یہ شھر کالے دھویں اور شور سے لبریز ہے ؛ ہے تو ہمارے دل و جگر کا ٹکڑا نا !
د پختونو د ثقافت نخہ دہ ؛ د بدے ورزے پہ امان دے وی تل
پختونوں کی ثقافت کا نشان ہے یہ شھر ، خدا اسے ہمیشہ برے دنوں سے اپنے حفظ و امان میں رکھے )آمین(
چہ د سائل پہ بدو نہ شی پیرزو ؛ خو د عابد د زڑگی سر دے کنہ !
جب سائل )مراد پشتو کے مشہور شاعر رحمت شاہ سائل( کو یہ گوارا نہیں کہ اس شھر کو کوئی دکھ پہنچے تو سمجھئے کہ یہ شھر بے مثال عابد )اس گیت کے خالق؛ جن کا بدقسمتی سے مجھے مکمل نام یاد نہیں آرہا( کے لئے جان جگر ہے ۔
نوٹ : یہ لاجواب ملی اور قومی گیت عابد صاحب نے لکھا ہے اور نوجوان فنکار عرفان خان نے بڑی خوبصورتی سے گایا ۔ اس نے ہر جگہ پختونوں میں مقبولیت حاصل کی ۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت میری نظر میں یہ ہے کہ اس میں کئی ماضی کے یادگار ملی اور قومی گیتوں کے ٹکڑے بڑے مہارت کے ساتھ شامل کئے گئے ہیں ؛ جس سے سننے والا کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے اور اس طرح یہ گیت اپنے جاندار بول کے زور پر اپنے سامعین کو مسحور کردیتا ہے ۔ اس کے بول اس بات کے ثبوت ہیں کہ پختون ایک طرح سے کتنے قوم پرست اور وطن پرست ہوتے ہیں ۔ میرے خیال میں یہ اچھی بات ہے اور ہر قوم کو اپنے وطن سے محبت کرنی چاہیئے ۔ ایک اور بات جس کی طرح میں اشارہ کرنا ضروری سمجھوں گا کہ جس طرح پاکستان کے پختون پشاور اور کوئٹہ سے جذباتی تعلق رکھتے ہیں اسی طرح یہ جذباتی تعلق وہ کابل ، جلال آباد اور قندھار کے ساتھ بھی رکھتے ہیں کیونکہ کبھی وہ شھر بھی ہمارے آبائو اجداد کے مسکن رہے ہیں اور ہم اب بھی ان پر اپنا حق جتانے ہیں کہ یہ ہمارے شھر ہیں جسے افغان بھی مانتے ہیں اور افغانستان کے پختون بھی اسی طرح کا جذباتی تعلق پشاور اور کوئٹہ سے رکھتے ہیں ۔ ہم پختون اپنے شھروں کو زندہ ہستی کی طرح سمجھتے ہیں ۔جس کا ایک ثبوت رحمت شاہ سائل کا وہ گیت ہے ، جو انہوں نے اسی کے دہائی کے اوئل میں لکھا تھا ۔ جب پشاور میں بم دھماکے زوروں پر تھے ۔ اس گیت طرف مذکورہ بالا گیت کے آخر میں اشارہ بھی کیا گیا ہے ۔ اپنے اس گیت میں سائل کہتے ہیں کہ اس کے محبوب شھر کا جسم بموں کے پرزوں سے چھلنی ہورہا ہے اور اس سے خون رس رہا ہے اور شاعر کو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جیسا یہ سب کچھ اس کے زندہ دل کے ساتھ کیا جارہا ہے ۔ وہ پشاور کو اس گیت میں ایک زندہ محبوب کی طرح مخاطب کرتے ہیں کہ اے میرے شھر ، اے میرے محبوب مجھے یہ گوارا نہیں کہ تمہارے جسم پر بم پھٹتے اور بارود بکھرتا رہے ۔ امید ہے آپ کو یہ شکستہ سا ترجمہ پسند آئے گا ۔ مع سلام