> روغانی کا بلاگ

سیاسی شطرنج اور زرداری صاحب کا پلان - سی

August 27th, 2008

 

کل میں اپنے کمپیوٹر کے ساتھ شطرنج کھیل رہا تھا ؛ چونکھ میں اپنے شریف صاحب کی طرح اس کھیل کے الف ب سے واقف نہیں ، اسلیئے ہر بار مات کھانی پڑی اور میرا کمپیوٹر بڑی مہارت سے اپنے داؤ کھیل رہا تھا ۔ شطرنج کوئی بھی ہو ، کھلینے سے پہلے پوری جانکاری ہونی چاہیئے اور کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اس کے تمام پہلوؤں پر غور کرنا چاہیئے ؛ کل کے کھیل سے میں نے کم از کم یہی سیکھا ۔
 

کھیلتے ہوئے مجھے جناب زرداری اور جناب نواز شریف کے درمیان جاری سیاسی بساط پر جاری شطرنج کا بار بار خیال آتا رہا کھ کس کمال ہوشیاری سے پی پی پی نے مسلم لیگ ن کو استعمال کرتے ہوئے ایک اتحادی حکومت کا ڈرامھ رچا کر امریکھ اور برطانیھ کو ‘سحرزدہ’ کیا ۔ بعد ازاں اسی قوت کو استعمال کرتے ھوئے مشرف کو رخصت کیا ۔ ججوں کی بحالی کا مسئلھ ٹالتے رہے ، کرسی صدارت کے لئے زرداری صاحب کو ‘متفقھ امیدوار’ کے طور پر پیش کیا اور آخر میں کہا گیا کھ  ‘معاہدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے’ ۔
 

اب نواز شریف صاحب کے لئے بہت ہی محدود راستے بچے ہیں جبکھ سب کچھ پی پی پی اور زرداری صاحب کے پلان کے مطابق ہورہا ہے ۔ پی پی پی نے اپنے پیادے ، سوار اور دیگر تمام ‘ریسورسز’ نہایت مہارات اور چالاکی سے استعمال کیے ۔ سندھ ہائی کورٹ میں ‘چند’ ججز کی بحالی کے بعد وزیر قانون کی طرف سے ججوں کی بحالی سے متعلق ‘تفصیلی طریقھ کار’ کی وضاحت کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ ججز اس طرح ٹولیوں میں بحال کئے جائیں گے اور اس طرح وکلا تحریک خود بخود دم توڑ جائے گی ۔
 

معزول چیف جسٹس افتحار محمد چودھری سمیت چند معزول جج صاحبان ، اعتزاز احسن اور دیگر وکلا لیڈرز کا ردعمل کیا ہوگا ؟ نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے لئے کونسا راستھ بچا ہے؟ یھ ان چند سوالات میں سے ہیں جو اگلے چند ہفتوں میں زیربحث آئیں گے ۔
 

چند دن قبل میں نے ایک بکواس ہندوستانی فلم دیکھی ۔ ‘بوم’ جس میں فیشن اور انڈر ورلڈ کو ذاتی مفادات کے لئے اکھٹے ہوتے ہوئے دکھایا گیا ھے لیکن بالآخر فیشن ورلڈ کی نازک حسینائیں انڈر ورلڈ کے بیوقوفوں کو مروا کر ان کی دولت لوٹ لینے میں کامیاب ھوجاتیں ہیں اور وہ بھی ایک ‘ہاؤس میڈ’ کی کامیاب پلاننگ کے نتیجے میں ۔ اس کی تہھ در تہھ پلاننگ سے سب کچھ ممکن ھوجاتا ھے ۔ جب حسینائیں تمام دولت لوٹنے کے قریب ہوتی ہیں تو اچانک ان کا ایک پرانا پارٹنر بوم شنکر چھت سے لٹک کر وارد ہوجاتا ہے اور سارا پلان خراب کردیتا ھے لیکن چالاک ھاؤس میڈ اسے کھیل کے آخر میں نہایت کامیابی سے استعمال کرنے کے بعد اسے اپنے ساتھ ہیلی کاپٹر میں سوار کرلیتی ہے اور تھوڑا سا فاصلھ طے کرنے کے بعد پائلٹ کو کہتی ہے : ‘ کیپٹن پلان سی’ اور پائلٹ صاحب یس میڈم کہھ کر بوم شنکر صاحب کے سیٹ کو ایجکٹ کردیتے ہیں ۔ بس یہی کچھ جناب نواز شریف کے ساتھ ہوا ۔
 

 

غم فراز پر

August 26th, 2008

 كتنا آسان تھا ترے ہجر ميں مرنا جاناں

 پھر بھی اك عمر لگی جان سے جاتے جاتے

 آپ انہیں ‘شاہ رومان’ کہیں یا ‘شاعر رومان’ بہرحال احمد فراز اور رومان کسی زمانے میں اور شائد مستقبل میں بھی مترادف الفاظ کے طور پر جانے جائیں گے ۔ میں نے فراز کا جو پہلا مجموعھ پڑھا ، وہ تھا “غزل بہانھ کروں” ۔ اس کے بعد ایک دو اور مجموعے بھی پڑھے ۔ اس سے پہلے مجھے شاعری پڑھنے کا شوق تو تھا لیکن یہ شوق صرف اقبال تک محدود رہا تھا لیکن فراز نے اسے ہمہ جہت بنادیا ۔ اس کے بعد نے فیض کو پڑھا اور بعد میں بہت کچھ ۔ اس لیے میں کہہ سکتا ہوں کہ میرے لیے اردو شاعری کے خوبصورت تخلیقات کا در وا کرنے والے احمد فراز ہی تھے ۔ ان کی موت کو اگر ہم اردو شاعری میں رومانوی شاعری کی موت نہیں سکتے تو کم از کم پختونستان یا پختونوں کی حد تک تو اردو شاعری کی موت واقع ہی ہوچکی ہے ۔ میں نہیں دیکھتا کہ فراز کے بعد کوءی اور پختون اس پایے کی اردو شاعری کرلے گا ۔ پاکستان میں اچھے لوگوں کی ویسے بھی کمی ہے اور فراز کی موت سے یہ قحط اور بھی زیادہ ہوجاءے گا ۔ لیکن خود کو حوصلہ دینے کے لیے کسی کا وہ قول یہاں لکھ دیتا ہوں کہ ‘دنیا میں پھول تب کھلتے ہیں جب شاعروں کے بدن جزو خاک بن جاتے ہیں’ ہم پاکستانیوں کو اور خاص طور پر پختونوں کو احمد فراز کی جسدخاکی سے کھلنے والے پھولوں کا نہایت ہی بے چینی سے انتظار رہے گا کیونکہ اج اس ملک اور اس خطے کو پھولوں کی جتنی ضرورت ہے ؛ شاید پہلے کبھی نہ تھی ۔ عرصہ ہوا ایک افغان شاعر نے افغانستان اور افغان قوم کا درد اپنے اشعار میں بیان کرتے ہوءے فاحتاوں اور پرندوں کو دعوت دی تھی کہ وہ اکر اس کے جوڑے ہوءے ہاتھوں میں اپنے گھونسلے بنالیں کیونکہ ان کے گھونسلوں کے لیے پہاڑوں پر کوءی چیڑ اور میدانوں میں کوءی چنار سلامت نہیں رہا ہے ۔ اج وہی کیفیت میرے وطن کی ہے ۔ وزیرستان ، سوات اور باجوڑ کے بعد اب یہ ناسور پھیلتے ہی جارہا ہے ۔ زندگی اور موت کے حوالے سے فراز کے چند اشعار :

 زندگی تیری عطا تھی سو تیرے نام کی ھے

 ہم نے جیسے بھی بسر کی تیرا احساں جاناں

ایک ضرب اور بھی اے زندگی تیشہ بدست
سانس لینے کی سکت اب بھی مری جاں میں ہے

اور اخر میں چند اشعار ، جو فراز کے بعد ہماری زندگی کی عکاسی کرتے ہیں :

 چوب نم خوردہ کی مانند سلگتے رہیں ہم

 نہ تو بجھ پائیں ، نہ بھڑکیں نہ دہلکتے جاویں

 تری بستی میں تیرا نام پتہ کیا پوچھا

 لوگ حیران و پریشان ہمیں تکتے جاویں

 

روس ، جورجیا مسئلہ : ایک اہم پہلو

August 25th, 2008

دبئی سے شائع ہونے والے امارات بزنس نے اپنے 23 اگست 2008 کی اشاعت میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں روس جورجیا کی حالیہ جنگ کے پیچھے ایک اور کہانی بیان کی گئی ہے ۔
اخبار نے اس رپورٹ پر جو سرخی جمائی ہے وہ کچھ اس طرح ہے :
بی پی قفقار میں مغرب کا ‘انرجی سرد جنگ‘ لڑنے میں مصروف ہے ۔
 
بی پی ایک برٹش آئل کمپنی ہے جو آزربائیجان سے خام تیل نکالنے میں مصروف عمل ہے ۔ اس وقت آزربائیجان سے خام تیل نکالنے کے لئے تین مختلف روٹس استعمال ہورہے ہیں ۔ (نقشہ ملاحظہ کریں)
پہلا روٹ (این آر ای پی) باکو سے شروع ہوتا ہے اور روس سے گزر کر بحراسود کے نووروسیسک کی بندرگاہ پر ختم ہوتا ہے ۔
دوسرا روٹ (ڈبیلو آر ای پی) باکو سے شروع ہوکر جورجیا کی سرزمین میں داخل ہوتا ہے اور اس کے تبیلیس شہر سے ہوتے ہوئے بحراسود کے جورجیائی بندرگاہ سوسپا پر ختم ہوتا ہے جبکہ تیسرا روٹ (بی ٹی سی) باکو اور تبیلیس سے ہوتے ہوئے ترکی میں داخل ہوتا ہے اور اس کے شہر ایرزورم سے ہوتے ہوئے ترکی کے بحرمتوسط پر واقع بندرگاہ چیہان پر ختم ہوتا ہے ۔
 
رپورٹ کا آغاز کچھ اس طرح کیا گیا ہے: ‘اگر سب کچھ بی پی کے پلان کے مطابق طے پاتا رہا تو دنیا کے اہم ترین جیوستراتیجک تیل سپلائی لائن باکو-تبیلیس-چیہان (بی ٹی سی) میں جلد ہی دوبارہ خام تیل کی ترسیل شروع ہوجائے گی ۔ تاہم اس سے بی پی کے تمام خدشات دور نہیں ہوں گے جس کا اس وقت اسے قفقار میں سامنا ہے کیونکہ روس کے ساتھ اس کی مخالفت پوری طرح ایک ‘انرجی سرد جنگ‘ کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے ۔‘
 
مضمون نگار لکھتا ہے کہ گزشتہ ہفتے باکو سے 45 کلومیٹر دور واقع سنگاچل آئل ٹرمینل سے تیل کی ترسیل تو جاری تھی مگر بہت کم مقدار میں اور وہ بھی - بی پی کے نقطہ نظر سے - غلط سمت میں جارہی تھی ۔ مشرقی ترکی میں بی ٹی سی پر دہشت گردوں کے ممکنہ حملے اور جورجیا کے خلاف روس کی فوجی کاروائی سے یہی محسوس ہورہا ہے کہ خام تیل کی جو محدود ترسیل ہورہی ہے وہ اس طرف چلی جائے گی (نادرن پائپ لائن - این آر ای پی) جہاں بی پی اس کو نہیں جانے دینا چاہتی ۔ یعنی انسویں صدی کے گریٹ گیم میں قفقار کے خطے میں روسیوں کی ایک اور فتح اور مغرب کی شکست ! اس وقت مغرب اور روس کے درمیان  قفقار اور کیپسن میں واقع تیل کے سب سے بڑے محفوظ ذخائر پر کنٹرول کے لئے لڑائی جاری ہے ۔ آزربائیجان اس علاقے میں ان ذخائر سے تیل نکالنے مٰیں غالب کردار ادا کررہا ہے ۔ بی پی کو مغرب (امریکا اور ریوپ) کی حمایت حاصل ہے جو ان ذخائر پر روس کے تسلط اور قبضہ سے پریشان ہیں اور اسے محفوظ کرنے اور روس کے ہاتھ سے نکالنے کے آرزومند ہیں ۔
 
مضمون نگار آگے لکھتے ہیں کہ آزربائیجان کو 1991 میں روس سے آزادی حاصل کرنے کے بعد دنیا کے انتہائی اہم مگر مسائل سے دوچار تیل ذخائر ورثے میں‌ ملے ۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ ان ذخائر کو استعمال میں‌ لاکر اسے ماڈرنائزیشن اور معاشی ترقی کے لئے کام میں‌ لائے ۔ آزربائیجان اس بات کا بھی خواہشمند ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات اور سنگاپور کی طرح ایس ڈبلیو ایف (ساورن ویلتھ فنڈ) کے ممالک میں شامل ہوجائے لیکن اسے ایک عجیب صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ وہ اپنے سابق کامریڈ “روس“ کے انرجی امپیریل ازم اور جنوب میں ایران کے درمیان جکڑا ہوا ہے ۔ (ٰیہاں‌ مضمون نگار نے مغرب کی بات نہیں کی کیونکہ وہ شائد مغرب کو آزربائیجان کے لئے ایک طرح کے نجات دہندہ کے طور پر پیش کرنا چاہ رہا ہے) ۔
 
مضمون نگار کے مطابق سوویت یونین کے خاتمے سے قبل روس نے یہاں کے ذخائر کو تاراج کرتے ہوئے اسے قبل از رفتہ مشینری سے نکالا اور اس بات کا خیال تک نہیں رکھا کہ اس سے علاقے کے ماحول پر کتنا خراب اثر پڑے گا ۔ روس کے اس طرح کے غیرذمہ دارانہ رویئ کی وجہ سے دارالحکومت باکو اور اردگرد کے علاقوں کے ماحول پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہوئے جس کا اب آزری حکومت کو سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ آزادی کے بعد آزری حکومت نے ملک کو بیرونی سرمایہ کاری کے لئے کھول دیا اور اس طرح مغرب کے جدید آلات سے لیس تیل کمپنیوں کو نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے کھلے سمندر میں تیل کے ان ذخائر تک رسائی حاصل ہوئی جو روسیوں کے ہاتھ نہیں‌ آسکے تھے ۔
 
مضمون نگار آگے لکھتا ہے کہ یہی سے بی پی کا عمل دخل شروع ہوتا ہے ۔ اس نے سب سے پہلے کیپسن کے آزر-چراگ-گناشلی فیلڈ پر کام شروع کیا جو خام تیل کی بڑی مقدار کو سنگاچل سپلائی کرتا ہے ۔ بی پی کو شروع سے ہی اندازہ تھا کہ اسے یہاں خام تیل کی سپلائی ، برآمد اور شپنگ میں بہت سے مسائل کا سامنا ہوگا۔ 2002 میں ہی اس قسم کے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ روس علاقے میں تیل کی ترسیل پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے باوجودیکہ ڈبیلو آر ای پی روٹ کے ذریعے تیل کی سپلائی جاری تھی جسے روس سے سے دسترس سے محفوظ تصور کیا جارہا تھا لیکن دو ہفتے قبل اس خام خیالی کا خاتمہ اس وقت ہوا جب  روس کے لڑاکا طیاروں نے اس پائپ لائن کے قریب ہی بم گرادیئے ۔ سوسپا روٹ (ڈبیلو آر ای پی) پر تیل کی ترسیل 12 اگست کو معطل کی گئی ۔
بی پی ، جو ان ذخائر کو کسی قیمت پر چھوڑنے پر تیار نہیں ، نے مضمون نگار کے مطابق اس مسئلے کا حل ایک اور پائپ لائن کی صورت میں دیکھ لیا تھا ۔  2002 ہی میں بی ٹی سی روٹ کا تصور پیش کیا گیا جس میں بحراسود سے گریز کرتے ہوئے اس پائپ لائن کو مشرقی ترکی سے ہوتے ہوئے بحرمتوسط تک پہنچا جائے ۔ چار سال بعد آخر کار چار بلین ڈالر (294 بلین پاکستانی روپے) کی لاگت سے اس 1750 کلومیٹر روٹ کو وجود بخشا گیا جسے بی پی نے بڑے فخر سے “ایسٹ ویسٹ پائپ لائن“ کا نام دیا ۔ اس پائپ لائن کا روٹ موحولیاتی خدشات کو مدنظر رکھ کر نہیں بلکہ سیاسی اور جغرافیائی حالات کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ۔ پائپ لائن کو آرمینیا سے بچ کر گزارا گیا کیونکہ 90 کی دہائی میں آزربائیجان کی اس ریاست کے ساتھ تین سال تک لڑائی ہوئی تھی اور اسے مشرقی ترکی جیسے ثقافتی طور حساس علاقے میں شہروں کے نیچے گزارا گیا ۔
 
مضمون نگار آگے جاکر لکھتا ہے کہ جب پانچ اگست کو اس پائپ لائن کے ایک پمپنگ سٹیشن میں آگ بھڑک اٹھی تھی تو ابتدائی طور پر اسے علحیدگی پسند کردوں کی کاروائی سمجھا گیا ؛ جس کے فورآ بعد پائپ لائن کو مرمت کے لئے بند کیا گیا ۔ تاہم بعد ازاں انکشاف ہوا کہ ایک روسی ٹینک پائپ لائن کے بالکل قریب آگیا تھا اور اس نے پائپ لائن کے بالکل نزدیک کئی گولے داغے ۔ اس سے بی پی کے اُس خوف پر مبنی ‘عظیم تر منصوبے‘ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جس کے تحت وہ علاقے میں تیل کی ترسیل کو روس کے اثر سے نکالنے کے لئے کوشاں ہے ۔
 
مضمون نگار کہتے ہیں کہ باکو میں بی پی کے دفتر نے تیل کی ترسیل کے لئے کوئی معینہ تاریخ دینے سے احتراز کیا ہے تاہم ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے آنے والے رپورٹس کے مطابق بی پی پرامید ہے کہ آئندہ ہفتے ترسیل اس وقت شروع کردی جائے گی جب کنسورشیم کے ترک پارٹنر کی طرف سے مرمتی کام کے مکمل ہوجانے اور اس کے جانج پڑتال کے بعد گرین سگنل مل جائے گا۔
 
مضمون نگار کے مطابق اس پائپ لائن سے روزانہ 850،000 بیرل خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے جو آزربائیجان کے آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور اس سے ملک کو ایک بلین ڈالر روزانہ کی آمدن ہوتی ہے جو اس وقت نسبتآ کم نرخ (یعنی 19 ڈالر فی بیرل) کے حساب سے بنتا ہے ۔ عالمی بینک کے مطابق آزربائیجان اسی پائپ لائن (بی ٹی سی) کے آمدن سے 250 بلین ڈالر کے ساتھ ساورن ویلتھ فنڈ کا ممبر بن سکتا ہے ۔

نوٹ: میں نے نقشہ اپ لوڈ کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا ۔ آپ نقشہ اور یہ پوسٹ اس ایڈریس پر دیکھ سکتے ہیں :
http://roghaniblog.blogspot.com

پشاور میں بجلی نہیں

August 9th, 2008

پشاور میں‌ جمعرات کی شام سے بجلی نہیں ہے ۔ جمعرات کی شام سے ہفتہ کی صبح تک صرف دو مرتبہ تیس تیس منٹ کے وقفوں کے لئے بجلی کی ترسیل بحال کی گئی ۔

بجلی کی ترسیل میں اتنے لمبے عرصے کے لئے تعطل کی وجہ سے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔ پانی کی سپلائی بھی معطل ہوگئی ہے اور پشاور کے شہریوں کو واقعتآ جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں ۔ ابھی ابھی میں نے اپنے ایک استاد (جو پشاور یونیورسٹی میں صحافت پڑھاتے ہیں ) سے اس بارے پوچھا تو ان کا کہنا تھا : “ہاں ! ہم بڑی مصیبت میں ہیں“ ۔

پہلے تو لوگ بجلی کی آنکھ مچولی کی وجہ سے کاروبار کی تباہی کا رونا رو رہے تھے اور اب غریب عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے ۔ پچھلے ماہ جب میں پشاور گیا تھا تب مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی بہت بڑے کارخانے میں آگیا ہوں کیونکہ شہر کے کسی بھی روڈ یا گلی سے گزرتے وقت جنریٹرز کی بدھی آوازیں تقریبآ ہر دوسرے تیسرے گھر یا آفس سے اٹھ رہی ہوتی تھیں ۔ ان حالات میں سمعی یا ماحولیاتی گندگی میں اضافے کے بارے میں پوچھنا یا بتانا بے کار سی بات ہوگی ۔

پشاور جانے سے قبل مجھے شارجہ میں چند لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا ؛ جو پشاور میں کمپیوٹر ساوفٹ وئیر اور ہارڈ ویئر کا کاروبار کررہے تھے ۔ وہ وزٹ ویزا پر آئے تھے اور یو اے ای میں اپنا کاروبار منتقل کرنے کے لئے اپنے دوستوں سے مشورے اور مارکیٹ سروے کرنے میں مصروف تھے ۔ جب میں نے وجہ پوچھی تو ان کا جواب تھا کہ یہ مت پوچھیں کہ کیوں شفٹ کررہے ہیں بلکہ یہ پوچھیں کہ اب تک شفٹ کیوں نہیں کیا ۔ بقول ان کے وہ کچھ عرصہ سے کاروبار شفٹ کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن بجلی کی ترسیل میں وقتآ فوقتآ لمبے تعطل نے انہیں یہ فیصلہ جلد کرنے پر مجبور کردیا ۔

پاکستان میں‌ یہ سب کیا ہورہا ہے ؟ کیا حکومت نام کی کوئی شے موجود ہے ؟ کیا ہم کسی بڑی تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں ؟ ‌

سابق وزیر قانون نے غلطی مان لی

May 20th, 2008

سابق وفاقی وزیر قانون وصی ظفر نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف دائر کئے جانے والے ریفرنس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ریفرنس پر ان کے دستخط موجود نہیں ہیں اور کوئی بھی سمری جو کہ وزارت قانون کی طرف سے وزیر اعظم کو بھیجی جائے اور اس پر وزیر قانون کے دستخط نہ ہوں تو وہ غیر قانونی ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس دو راستے تھے، یا تو وزارت چھوڑ دیتے اور یا پھر ریفرینس کا دفاع کرتے۔ میں کمزور پڑ گیا اور وزارت چھوڑنے کی بجائے ریفرنس کا دفاع کیا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریفرنس کا ریکارڈ وزارت قانون میں موجود ہے اور اگر کوئی ثابت کر دے کہ اس پر ان کے ہی دستخط ہیں تو وہ قصوروار ہوں گے۔

وصی ظفر صاحب نے اپنی غلطی اور ریفرنس کے غیرقانونی ہونے کا اعتراف کرلیا ہے  ۔ مرحبا ! وصی صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں ۔

لیکن ! سوچنا یہ ہے کہ آخر وہ اس وقت کیوں بول رہے ہیں ۔ یہ پوسٹ شروع کرتےوقت میرا ارادہ صرف وصی صاحب کو مبارکباد دینے کا تھا لیکن اب  صحافتی رگ نے جنبش سی لے لی اور کچھ بو سونگنے میں آرہی ہے ۔ بی بی سی نے یہ خبر بھی دی ہے کہ آئینی پیکج تیار کرلیا گیا ہے جسے باہمی   مشاورت اور اتفاق رائے کے بعد پارلیمنٹ میں‌ پیش کیا جائے گا ۔ کیا وصی ظفر صاحب یہ بیان داغ کر کچھ خاص مفادات حاصل کرنے کے خواہاں ہیں یا صرف اپنی پوزیشن کلیئر کررہے ہیں ۔ ہمارے سابق وزیرقانون سے کچھ اور غلطیاں بھی ہوئی ہیں ؛ جیسے ایک لائیو ٹی وی پروگرام میں غیرشائستہ زبان کا استعمال ۔ یہ غلطیاں بھی وصی صاحب  کا منہ چڑا رہی ہیں ۔ امید ہے وہ نہ صرف اُن غلطیوں کو مانیں گے بلکہ اس پر معافی بھی مانگیں گے ۔

معزز و مکرم جج صاحبان کو سلام

December 7th, 2007

میں‌ پچھلے دو گھنٹوں سے مختلف خبریں‌ ایک ہی زاویہ نظر سے پڑھ رہا ہوں کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں ، حکومت ، عوام ، سول سوسائیٹی ، طلبہ اور امریکہ بہادر ہمارے ان پرعزم اور معزز و مکرم ججوں کے بارے میں‌ کیا سوچ رہے ہیں اور مستقبل کی جو  پیش بندی کی جارہی ہے اس میں یہ جج صاحبان کہاں ہوں گے ۔

ظاہر ہے پاکستان کے عوام ، سول سوسائیٹی ، طلبہ ، وکلا اور کچھ سیاسی شخصیات (میں نے قصدآ‌ سیاسی شخصیات کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ ابھی تک اس معاملے پر کسی بھی سیاسی جماعت کا “پالیسی بیان“ میری نظر سے نہیں‌ گزرا) معطل کئے جانے والے جج صاحبان کی بحالی چاہتے ہیں ۔ لیکن باقی کا کیا حال ہے ۔

بے نظیر اور ان کی پارٹی اس معاملے میں لیڈ کررہی ہے کہ جج صاحبان کی بحالی کی بات نہیں‌ بلکہ عدلیہ کی آزادی کی بات ہونی چاہیئے ۔ ان کا صاف موڈ یہی ہے کہ وہ معطل جج صاحبان پر کمپرومائز کرنے کے لئے بالکل تیار بیٹھے ہیں ۔ آج بی بی کا دوسرا تفصیلی بیان آیا ہے اس معاملے پر ۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس پہلے بھی تو جج معطل کئے جاچکے ہیں ، فلاں اور فلاں کے دور میں اتنے اتنے جج معطل ہوئے ، ان کا کیا ہوگا ۔ میرے خیال میں یہ کوئی مشکل نہیں یہ تو اچھی بات ہوگی اگر یہ قدم اس وقت اٹھایا جائے ۔ جن جن جج صاحبان نے ماضی میں قربانی دی ہے اور مارشل لا کے بعد مستعفی ہوئے ہیں یا انہیں ہٹایا گیا ہے انہیں بحال کیا جائے (وفات ہونے والوں اور ریٹائرمنٹ کی مدت پوری کرنے والے جج صاحبان کے لئے یہ بحالی رسمی ہوگی ) ۔ یہ ایک تاریخی واقعہ بن سکتا ہے کہ پاکستانی تاریخ ان کے تمام ہیروز کو یاد کیا جائے اور ان کی عزت افزائی کی جائے ۔ اگر وہ اپنے رب کے پاس پہنچ چکے ہیں تو ان کے قبروں پر حاضری دی جائے ، انہیں سلام پیش کیا جائے اور ان کے ورثا کو وہ پورے مراعات دیئے جائیں جن کے وہ اپنے ریٹائرمنٹ کے بعد حقدار تھے ۔ اگر وہ زندہ ہیں تو اس کے گھروں کے باہر تعظیم کے طور پر پانچ یا دو منٹ تک کھڑا ہوا جائے ، گھروں کے سامنے پھول رکھے جائیں اور انہیں وہ تمام سرکاری مراعات دی جائیں جن کے وہ حقدار تھے اور موجودہ جج صاحبان کو بحال کرکے انہیں‌ آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے ۔ کیا بے نظیر اور ہمارے لیڈر قوم کو ایک نئی صبح ، ایک نئی زندگی اور ایک نیا جوش دینا پسند کریں گے یا وہ نام نہاد آئینی اور قانونی موشگافیوں کی وجہ سے اس طرح کے مواقع ضائع کرتے رہیں گے ۔ حالات قانونی اور آئینی موشگافیوں سے نہیں بدلتے بلکہ اس کے لئے انقلابی قدم کی ضرورت ہوتی ہے جسے میرے خیال میں اٹھانے کا یہ بہترین وقت ہے ۔

امریکہ بہادر نے بے نظیر اور عاصمہ جہانگیر کو تو رہا کروادیا (مجھے ان کی رہائی پر یا اس کے لئے امریکی کوششوں پر ہرگز کوئی اعتراض نہیں بلکہ میں اس کے لئے امریکی حکومت کا شکرگزار ہوں) لیکن عوام کے محبوب چیف جسٹس اور وکلا کے دلوں کی دھڑکن ابھی تک گھر میں محبوس ہیں ۔ ان کے بارے میں کوئی بیان تک نہیں دیا جارہا ہے ۔ امریکی حکومت تو کیا دنیا کی وہ بین الاقوامی قانونی فورمز کیا ہوئے ، وہ انسانی حقوق کی تنظیمیں کیا ہوئیں اور کامن ویلتھ کیا ہوئی جنہوں نے اس اقدام کے خلاف پہلے دنوں میں خاصا سخت احتجاج کیا تھا ۔ کیا ان کو سانپ سونگ گیا ہے ؟ میں انتخابات کے خلاف نہیں ، میں سیاسی جماعتوں اور ان کے سیاسی مفادات کے خلاف نہیں ، لیکن خدا کے لئے معطل شدہ جج صاحبان کی بحالی کو یقینی بنائیں ورنہ پھر قیامت تک کوئی بھی اس ملک کے لئے قربانی دینے سے پہلے کم از کم سو مرتبہ سوچے گا ۔ میرے خیال میں جج صاحبان ہرگز اس بات کے متمنی نہیں کہ انہیں اس لئے بحال کیا جائے تاکہ ان کی نوکریاں پکی ہوں ، بالکل نہیں ، لیکن ان کی بحالی قانون کی علمداری ، آئین کی بحالی ، سپریم کورٹ کے تقدس اور حق کی فتح کی علامت تصور ہوگی ۔ بصورت دیگر حاصل ہونے والا پھل ، بے شک پھل تو ہوگا لیکن کڑوا کھسیلا پھل ہوگا ، جسے ہماری سیاسی جماعتیں چھکتے ہی تھوکنے پر مجبور ہوں گی ، یہ اور بات ہے کہ اس وقت  یہ پھل انہیں اپنی ظاہر شکل و صورت سے اپنی طرف کھینچا چلا جارہا ہے ۔

آخر میں سپریم کورٹ کے محترم ، مکرم  اور عالی قدر جج جناب جسٹس بھگوان داس صاحب کو ایک سپیشل سیلوٹ اور سلام کہ وہ حق کا پرچم لئے بڑی بہادری کے ساتھ اسلام آباد میں کھڑے ہیں ۔ انہیں کھڑا رہنا چاہیئے کہ ان کے دم سے پاکستان کا وقار کھڑا ہے ۔ اللہ تمام بہادر اور جری جج صاحبان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔ آمین

!تب بھی کچھ ہوگا لیکن میں بتائوں گا نہیں

December 2nd, 2007


آپ پرویز مشرف کے آٹھ سالہ اقتدار کو کیسے دیکھتے ہیں؟ اس کے پاکستانی فوج پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ کیا وکلاء اور سول سوسائٹی کی تحریک سیاسی جماعتوں پر عدم اعتماد کی علامت ہے؟ کیا پاکستانی عوام درحقیقت ملک میں جمہوریت کے خواہاں ہیں اور اگر ہاں تو وہ جمہوریت کیا ہے؟ آپ کی نظر میں ضیاء الحق کے اسلامی نظام اور پرویز مشرف کی روشن خیالی میں کیا فرق تھا؟ ملک میں آگے کیا ہونے والا ہے؟

یہ بی بی سی کے پاکستانی عوام سے پوچھے گئے چند سوالات ہیں ۔ ایک پاکستانی کی حیثیت سے میں اس پر اپنے جوابات اس پوسٹ میں دینا چاہوں گا کیونکہ میرا نہیں خیال کہ بی بی سی میرے اتنے لمبے کمنٹس کو جانے دے گی اور پھر اس میں اور بھی بہت کچھ ہے جو اسے ماڈریشن کے عمل میں روکنے کے قابل بناسکتا ہے ، اس لئے ادھر ہی پڑھیئے ۔

نمبر ایک : بھئی اس وقت تو سابق جنرل صاحب اور ان کی حکومت سے متعلق کچھ کہنا سننا جرم ہے جس کے پاداش میں منہ پر ٹیپ لگائے اور پولیس کی طرف سے ڈنڈے برسائے جارہے ہیں ۔ میں ذاتی طور پر جنرل صاحب کے سابقہ آٹھ سالہ دور اقتدار کو پاکستان کی تاریخ کا انتہائی متنازعہ ، منفی اور پاکستان کے لئے انتہائی برا وقت قرار دوں گا ۔ اس کی تفصیل کے لئے میرے چند سابقہ پوسٹس پڑھنے کی زحمت کرلیں ۔ خیال رہے کہ ان کا دور سعید ابھی جاری ہے کیونکہ ابھی وہ مسند اقتدار پر صدر کی حیثیت میں بدستور موجود ہیں ۔ 

پاکستانی فوج نے ان کے دور میں اپنا بدترین وقت گزارا ۔ پچھلے ہی دنوں پاکستان کے ایک معروف عسکری تجزیہ نگار نے بی بی سی کے صفحات پر لکھا کہ پاکستانی فوج کو جنرل مشرف کے دور میں انتہا درجے کا نقصان پہنچا کیونکہ ان کی سیاسی مشغولیت نے ان کی توجہ فوج کی پروفیشنل ضروریات پر نہیں جانے دی اور اس طرح فوج کو نقصان اٹھانا پڑا ۔ یہ تو تکنیکی بات ہے ۔ فوج کو عوام سے پہلی بار متصادم کیا گیا بلکہ باجوڑ ، وزیرستان اور اب سوات میں تو اسے بالکل عوام سے بالفعل لڑایا گیا ۔ فوج کو انتہائی طور پر بدنام کیا گیا ۔ لوگوں کو آٹھوا کر ، عوام کو سڑکوں پر پٹوا کر اور بے عزت کرکے ۔ اس کے چند نمونے دیکھنے کے لئے “میرا پاکستان“ پر حال ہی میں پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو دیکھئے (مجھے افسوس ہے کہ میں کچھ تکنیکی خرابی کی وجہ سے لنک نہیں دے پارہا) ۔ سچ پوچھیں تو فوج تو پہلے بھی اسی طرح قابض تھی اور اس نے ہر قابض فوجی حکمران کا ساتھ دیا تھا لیکن اس طرح‌ کھل کر عوام کے مقابلے میں کبھی نہیں آئی تھی لیکن اس مرتبہ حد کردیا گیا ہے ۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ عوام میں فوج کے خلاف نفرت پیدا ہوگئی ہے ، اس کا مداوا ہونا چاہیئے ۔ چیف جسٹس کے خلاف اقدام اور اب حال ہی میں عدلیہ کے خلاف ‘کو‘ نے اس نفرت کو ہوا دی ہے اور یہ سب کچھ ایک شخص کے لئے کیا گیا لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ شخص بھی فوج کے مفادات کا تحفظ کررہا تھا اور کررہا ہے ۔ 

نمبر دو : عدم اعتماد کی نہیں تو کم از کم ان سے بیزاری کی علامت تو ہے ہی کیونکہ سیاسی جماعتیں بانجھ ہوچکی ہیں وہ کچھ ڈیلور نہیں کرسکتی ۔ اس لئے عوام وکلا اور سول سوسائٹی کے تحریک کو بہتر گردانتے ہیں ، تاہم اس میں بھی عوام نے حصہ نہیں لیا ۔ میرے خیال میں اس پر بحث ہونی چاہیئے کہ پاکستانی عوام نیپال کے عوام کی طرح باہر کیوں نہیں نکلے اور بھوٹانیوں کی طرح کیوں دبکے پڑے رہے ۔ اس کے وجوہات کیا ہیں ۔ فرانس اور چائنہ کے عوام کی  مثال میں نہیں دوں گا کیونکہ ابھی پاکستانی قوم اتنی زیادہ میچور نہیں ہوئی ۔

نمبر تین : عوام تو جمہوریت کے خواہاں ہیں لیکن بس صرف خواہاں ہیں ، لانے کے لئے تیار نہیں ۔ اٹھ کھڑے ہونے کی سکت یا ہمت نہیں ان میں ۔ یہ خواہاں بھی بڑا عجیب لفظ ہے ۔ یہ نوکرشاہی اور حکومت کے پریس ریلزوں میں اچھا لگتا ہے جب وہ کہتے ہیں کہ حکومت عوام کی بہتری کی خواہاں ہے ۔ جب مشرف کہتے ہیں کہ وہ ملک میں حقیقی جمہوریت کے خواہاں ہیں ۔ جب یہ لفظ اس طرح استعمال ہوتا ہے تو یہ اپنے اصل معنی کھودیتا ہے ، یہ لفظ بھی کھوکھلا کھوکھلا سا لگنے لگتا ہے ۔ ہے نا !

نمبر چار : ضیا کے فلسفہ اسلامی نظام اور مشرف کے روشن خیالی کے فلسفے کی بنیادیں مشترک ہیں ۔ دونوں نے یہ شوشے اپنے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لئے چھوڑے تھے ۔ ضیا کے نظام میں صرف “ضیا اسلام والا“ (جنرل ضیا تاریخ میں اسی حوالے سے یاد رکھیں جائیں گے) تھا اسلام کچھ بھی نہیں اور مشرف کے روشن خیالی میں‌ “مشرف خیالی“ ہے روشن کچھ بھی نہیں ، بس اتنی روشنی ہے کہ جدھر دیکھیں مشرف ہی مشرف نظر آتے ہیں ۔ تو بنیادیں دونوں کی مشترک ہیں ۔ دوسری بات جو مشترک ہے وہ یہ کہ دونوں نے جو الفاظ منتخب کئے ، خوب سوچ سمجھ کر کئے اور ان الفاظ (یا مکتب فکر) کے دیوانوں کو اپنے طرف نہ صرف کامیابی سے متوجہ کیا بلکہ کئی سالوں تک کی ان کی ہم نشینی اور حمایت کے مزے بھی لوٹے ۔ ضیا کو اسلام پسندوں کی جبکہ مشرف کو روشن خیالوں کی ۔ اور آخر میں دونوں طبقوں کو مایوس ہوکر کہنا پڑا کہ انگور کھٹے ہیں ۔ یعنی دونوں نے الفاظ ‘اسلام‘ اور ‘روشن خیالی‘ کو صرف استعمال کیا ۔ دونوں کا ان سے دور دور تک کا واسطہ نہیں تھا ۔ ایک اور بات دونوں نے آئین کو خوب رگیدا ، عدلیہ کو بے توقیر کیا ، پارلیمنٹ کو گھر کی لونڈی کی طرح رکھا اور سیاستدان : اوف اللہ : ان کی تو مت ہی ماردی ۔ سیاست اور سیاستدان جیسے الفاظ کو گالی بنادیا ۔ یقین کیجئے کہ اب پاکستان میں سیاست کا لفظ گیم کھیلنے ، دھوکہ دہی اور فراڈ کے مترادف استعمال ہورہا ہے ۔ ذرا سوچیئے جب ہم کسی کی کمینگی کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو کہتے نہیں کہ ‘ اوئے دیکھو ! فلاں میرے ساتھ سیاست کررہا ہے ۔ “ یہاں پر بس نہیں بلکہ اور بھی بہت کچھ مشترک ہے لیکن مجھے یارا نہیں لکھنے کا ۔ ہاں صرف ایک چیز مختلف ہے کہ تب ضیا صاحب تھے اور اب مشرف صاحب ۔

آگے کا تو اللہ سائیں مالک ہے ۔ وہ خوب جانتا ہے کیا ہوگا ۔ اگر مشرف اسی طرح مطلق العنان رہے تو شائد سول وار ہوجائے اور اگر وہ سیاستدانوں کے ساتھ حکومت کا کیک شریک کرنے پر راضی ہوگئے تو پھر عوام تیاری پکڑیں ۔ کچھ کھانے کی ۔ ان کو نئی نئی سوغاتیں دی جائیں گی ۔ لمبے لمبے بجلی اور گیس کے بل ، بیرونی قرضے ، نمائشی بڑے بڑے منصوبے اور اور اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حقیقت میں کچھ بھی نہیں ۔ تب بھی کچھ ہوگا لیکن میں بتائوں گا نہیں

مشرف کا پاکستان

November 6th, 2007

کچھ دنوں سے سب بلاگز پر طویل خاموشی چھائی ہوئی ہے ، ماسوائے افضل صاحب اور اجمل بھوپال صاحب کے بلاگز کے ، ۔ جس طرح افضل صاحب نے گزشتہ روز لکھا تھا کہ پریشانی کے عالم میں آدمی بیکار وقت گزارنا چاہتا ہے ، کچھ کرنے ، کچھ سوچنے اور پھر کچھ لکھنے کو دل نہیں کرتا ۔ میں یہاں یہ اضافہ کرنا چاہوں کہ میری تو بھوک ہی مٹ گئی ہے ، گزشتہ دو تین دن سے بھوک لگتی نہیں ، دوستوں کے ساتھ زبردستی بیٹھ کر چند نوالے کھالیے تو کھالیے ورنہ عجیب سی افسردگی اور غائب دماغی سی چھائی ہوئی ہے ذہن و قلب پر ۔

یہ پاکستان پہلے بھی نہ تو ہمارا تھا اور نہ ہمارے آباواجداد کا ، بلکہ ایک ادارے کا قبضہ اور جاگیر بنا ہوا تھا (جس میں گاہے گاہے دوسرے ادارے بھی جزوقتی طور پر شامل ہوتے رہے ) لیکن ایمرجنسی نے اسے مشرف کا پاکستان بنا دیا ہے ۔ یہ اب کسی ایک ادارے کا بھی نہیں بلکہ جناب جنرل مشرف صاحب کی ذاتی جاگیر بن گیا ہے ۔ سمجھ میں نہیں آتا کیا لکھوں !!!

ایک انڈین مسلمان کا ایمرجنسی پر پہلا تبصرہ یہ تھا “لگتا ہے کہ پاکستانی اسی طرح ڈنڈے ہی کے مستحق ہیں ۔“ یہ سن کر غصہ بھی آیا ، دل بھی جلا اور بس اپنے ہونٹ ہی کاٹ لیئے  ۔ میں اسے کیسے سمجھاتا کہ قومیں بچوں کی طرح ہوتی ہیں ؛ ان کی بھی پرورش ہوتی ہے اور ان کے قائدین والدین کی طرح ہوتے ہیں ۔ ہم تو ایک سال کے تھے کہ ہمارے بابا وفات پاگئے اور جو پیچھے رہ گئے وہ سارے نالائق ثابت ہوئے ۔ انہوں نے ہمیں تباہ کرکے اپنے گھر بسالئے ۔ پھر ایک بندوق بردار آیا اور اس نے ایسا ریت نکالا کہ آج تک ہم بھگت رہے ہیں ۔ میں اپنے قوم کو کس طرح مورد الزام ٹھہرائوں کہ ان کی تو سیاسی تربیت ہی نہیں ہوئی ؛ انہوں‌ نے جمہوریت دیکھی ہی نہیں ؛ انہیں آزادی اور ووٹ کے قوت کا نشہ چڑھا ہی نہیں ۔

پاکستان ، اس کے قیام اور بقا کے حوالے سے بہت سارے سوالات میرے ذہن میں اٹھ رہے ہیں ۔ وہ میں آپ لوگوں سے شیئر کرنا چاہتا ہوں لیکن کسی اگلے پوسٹ میں ، کہ اس وقت ہاتھوں کا دم ، ذہن کی قوت اور دل کی طاقت ایک ساتھ جواب دے رہی ہے !!!‌ ‌اللہ پاکستان اور ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں‌ رکھے ، آمین

ایک پشتو ملی گیت کا ترجمہ

November 3rd, 2007

میں حاضر ہوں ! 

ٰاردو جہاں سے امر )حکم( آیا ہے کہ ایک پشتو گیت کے بول اور ترجمہ چاہیئے ۔ میں اسے اردو جہاں پر بھی پوسٹ کردیا ہے اور یہاں بھی پوسٹ کردیتا ہوں امید ہے کسی کو اعتراض نہیں ہوگا ۔ لیجئے ترجمہ مع پشتو سکرپٹ :

پیخور خو پیخور دے کنہ ! پشاور ، ارے پشاور کا کیا کہنا !

 منم خائستہ خائستہ خارونہ شتہ دے ۔ خو دے پہ ٹولو باندے بر دے کنہ !

 مانتا ہوں کہ خوبصورت سے خوبصورت شہر موجود ہیں مگر یہ شھر )پشاور( ، سب پر بالا ہے

د ھر زائے خپل خوندونہ ، خپلے مزے خو پیخور خو پیخور دے کنہ !

بجا کہ ہرجگہ کی اپنی خوبیاں اور خوبصورتی ہوتی ہے مگر پشاور وہ شھر ہے جس کا کوئی جواب نہیں ۔

 سنگہ چہ خار داسے ئے نوم خکلے دے ، پہ سڑی لگی د اشنا پہ شانے

جس طرح یہ شہر خوبصورت ہے تو اسی طرح اس کا نام بھی دلربا ہے اور بالکل اپنے محبوب کی طرح محسوس ہوتا ہے

دلتہ بوڈا خکلے ، ماشوم خکلے دے ، پیغلے ئے ننگ لری د زوان پہ شانے

یہاں کے بوڑھے اور بچے خوبصورت ہیں اور یہاں کی دوشیزائیں جوان مردوں کی طرح بہادر ہوتی ہیں

د ملاکنڈ پہ شانے دنگے غڑے ؛ د ھر زلمی زڑہ ئے خیبر دے کنہ !

 ان دوشیزائوں کے گردن مالاکنڈ پہاڑ کی طرح بلند اور یہاں‌ کے ہر جوان کا دل خیبر (کے پہاڑوں ( کی طرح مضبوط ۔

 چہ پختانے سنگار یدل اوغواڑی ؛ د پیخور نہ قمیص تور غواڑی

 پختون دویشزائیں اپنے بنائو سنگار کے لئے اور اپنے حسن میں اضافے کے لئے پشاور کے کالی قمیص کی طالبگار ہرتی ہیں ) “اپنے عیسیٰ خیلوں کی قیمص تیری کالی مدنظر رکھیئے“

د خپل جانان نہ چہ تحفہ اغواڑی : د خار گلولونہ درے ثلور غواڑی

 اور جب کبھی اپنے محبوب سے تحفہ چاہتی ہیں تو یہ پشاور کے چند پھولوں‌ کا مطالبہ ہوتا ہے ۔

 چہ خورو تہ ھم خائست زیاتوی : د حسن داسے جادوگر دے کنہ !

یہ شھر حسن کا ایسا جادوگر ہے کہ اگر خور جنت بھی کبھی ادھر آنکلے تو اس کا حسن بھی دوبالا ہوجائے ۔ یعنی اس کے حسن میں اضافہ ہوجائے

۔ لکہ سڑی گلونہ ڈیر اوینی ؛ خو د دلبر مینہ پرے نہ ماتیگی داسے کہ سوک خارونہ ڈیر اوینی ؛ د پیخور تندہ پرے نہ ماتیگی

چاہے آدمی دنیا جہاں کے شہر دیکھ لے مگر پشاور کی محبت کی پیاس نہیں بھجتی اور یہ ایسا ہی کہ آدمی بہت سے خوبصورت اور خوش نما پھول دیکھنے کے بعد بھی اپنا دلبر کے محبت کا پیاسا ہوتا ہے ۔

 ھر یو سحر ئے د گلونو سحر ؛ خو مازیگر ئے مازیگر دے کنہ !

اس شہر بے مثال کی صبح ، پھولوں کی صبح کہلاتی ہے ولیکن اس کا وقت عصر بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے “یہ تو میرا ذاتی تجربہ ہے کہ غروب آفتاب کے فورا بعد اگر آپ پشاور کے کھلی فضا میں نکلیں تو عجیب سی مستی اور سرور کا احساس ہوتا ہے جسے الفاظ میں سمیٹنا مشکل ہے مگر شاعر نے اچھی کوشش کی ہے“

زما نہ چرے ھیریدلے نہ شی ؛ ھم دے زما ، ھم د جانان پیخور

میں اسے کسی طور بھلا نہیں سکتا کیونکہ یہ میرا بھی شھر ہے اور میرے محبوب کا بھی ۔

 پردی خارونہ مے خوڑلے نہ شی ؛ کور دے زمونگہ د ارمان پیخور

پرائے شھر ہمیں ہضم نہیں کر پائیں گے کیونکہ ہمارے ارمانوں کا مرکز پشاور ہی ہے ۔

 کہ د لوگو اور د شورہ نہ ڈک دے ؛ خو زمونگ زڑہ ، زمونگ زیگر دے کنہ !

کیا ہوا کہ یہ شھر کالے دھویں اور شور سے لبریز ہے ؛ ہے تو ہمارے دل و جگر کا ٹکڑا نا !

د پختونو د ثقافت نخہ دہ ؛ د بدے ورزے پہ امان دے وی تل

پختونوں کی ثقافت کا نشان ہے یہ شھر ، خدا اسے ہمیشہ برے دنوں‌ سے اپنے حفظ و امان میں رکھے )آمین(

چہ د سائل پہ بدو نہ شی پیرزو ؛ خو د عابد د زڑگی سر دے کنہ !

جب سائل )مراد پشتو کے مشہور شاعر رحمت شاہ سائل( کو یہ گوارا نہیں کہ اس شھر کو کوئی دکھ پہنچے تو سمجھئے کہ یہ شھر بے مثال عابد )اس گیت کے خالق؛ جن کا بدقسمتی سے مجھے مکمل نام یاد نہیں‌ آرہا( کے لئے جان جگر ہے ۔

نوٹ : یہ لاجواب ملی اور قومی گیت عابد صاحب نے لکھا ہے اور نوجوان فنکار عرفان خان نے بڑی خوبصورتی سے گایا ۔ اس نے ہر جگہ پختونوں میں مقبولیت حاصل کی ۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت میری نظر میں یہ ہے کہ اس میں کئی ماضی کے یادگار ملی اور قومی گیتوں کے ٹکڑے بڑے مہارت کے ساتھ شامل کئے گئے ہیں ؛ جس سے سننے والا کہیں سے کہیں‌ پہنچ جاتا ہے اور اس طرح یہ گیت اپنے جاندار بول کے زور پر اپنے سامعین کو مسحور کردیتا ہے ۔ اس کے بول اس بات کے ثبوت ہیں کہ پختون ایک طرح سے کتنے قوم پرست اور وطن پرست ہوتے ہیں ۔ میرے خیال میں یہ اچھی بات ہے اور ہر قوم کو اپنے وطن سے محبت کرنی چاہیئے ۔ ایک اور بات جس کی طرح میں اشارہ کرنا ضروری سمجھوں گا کہ جس طرح پاکستان کے پختون پشاور اور کوئٹہ سے جذباتی تعلق رکھتے ہیں اسی طرح یہ جذباتی تعلق وہ کابل ، جلال آباد اور قندھار کے ساتھ بھی رکھتے ہیں کیونکہ کبھی وہ شھر بھی ہمارے آبائو اجداد کے مسکن رہے ہیں اور ہم اب بھی ان پر اپنا حق جتانے ہیں کہ یہ ہمارے شھر ہیں جسے افغان بھی مانتے ہیں اور افغانستان کے پختون بھی اسی طرح کا جذباتی تعلق پشاور اور کوئٹہ سے رکھتے ہیں ۔ ہم پختون اپنے شھروں‌ کو زندہ ہستی کی طرح سمجھتے ہیں ۔جس کا ایک ثبوت رحمت شاہ سائل کا وہ گیت ہے ، جو انہوں نے اسی کے دہائی کے اوئل میں لکھا تھا ۔ جب پشاور میں بم دھماکے زوروں پر تھے ۔ اس گیت طرف مذکورہ بالا گیت کے آخر میں اشارہ بھی کیا گیا ہے ۔ اپنے اس گیت میں سائل کہتے ہیں کہ اس کے محبوب شھر کا جسم بموں کے پرزوں سے چھلنی ہورہا ہے اور اس سے خون رس رہا ہے اور شاعر کو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جیسا یہ سب کچھ اس کے زندہ دل کے ساتھ کیا جارہا ہے ۔ وہ پشاور کو اس گیت میں ایک زندہ محبوب کی طرح مخاطب کرتے ہیں کہ اے میرے شھر ، اے میرے محبوب مجھے یہ گوارا نہیں کہ تمہارے جسم پر بم پھٹتے اور بارود بکھرتا رہے ۔ امید ہے آپ کو یہ شکستہ سا ترجمہ پسند آئے گا ۔ مع سلام

ایک اور امانت علی

October 27th, 2007

 

شائد موجودہ حالات کے تناظر میں کچھ دوستوں کو یہ پوسٹ کچھ غیرمتعلقہ لگے لیکن منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے اس طرح کے پوسٹ لکھنا اور پڑھنا بھی ضروری ہیں ، شائد ہم سیاست میں کچھ زیادہ ہی ملوث ہو رہے ہیں ، کچھ مترنم اور لطیف قسم کی گفتگو بھی ہونی چاہیئے ! کیوں آپ کا کیا خیال ہے ۔

تو بات کچھ یوں ہے کہ ہندوستان کا ایک معروف ٹی وی چینل گزشتہ کئی مہینوں‌ سے موسیقی کے ایک مقابلے کا اہتمام کرتا چلا آرہا تھا جس کا فیصلہ گزشتہ دنوں‌ ہوچکا ۔ اس مقابلے میں دو ہندوستانی اور ایک پاکستانی جوان شامل تھے ۔ پاکستانی نوجوان امانت علی تیسرے نمبر پر  آئے ۔

یہ متوقع بھی تھا کیونکہ اس کا ہندوستان میں ووٹ بینک ممکن ہی نہ تھا ۔ بہرحال یہ بھی انتہائی زیادتی ہوگی اگر ہم کہیں کہ امانت کے ساتھ کچھ مذہبی یا جغرافیائی عصبیت روا رکھی گئی ، میرے خیال میں بالکل ایسا نہیں کیونکہ میں نے ہندوستانیوں اور ہندئوں کی ایک بڑی تعداد کو امانت علی کے حق میں بات کرتے پایا ؛ کئی ہندوستانیوں اور ہندئوں نے نتائج کو بوگس قرار دیا کیونکہ ان کے فیورٹ امانت علی کو تیسرے نمبر پر رکھا گیا‌ ۔ بہرحال جہاں تک میں نے امانت علی کو سنا وہ اس قسم کے کسی مقابلے سے بے نیاز بھی ہیں ۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ایک اور امانت علی مل گئے ہیں ۔پاکستانی ایک امانت علی خان کو بالکل جوانی میں کھو چکے تھے اور آج تک لوگ اس کے سحر سے نہیں نکل پائے ؛ بالخصوص جب وہ اپنے جادو بھری آواز میں “انشا جی اٹھو“ اور “یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے“ گاتے ہیں ۔ اسی طرح ہم نے اس امانت کے امانت (استاد امانت علی خان کے قابل بیٹے اسد امانت علی خان) کو بھی نہائت جوانی میں کھودیا ۔ اگرچہ ان کے بارے میں یہ بات قدرے صحیح بھی ہے کہ وہ اپنے والد کے سحر سے نہیں نکل سکے اور کچھ نیا نہیں گا پائے لیکن ان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہ تھی انہوں نے جب نیا گایا تو اس کا حق ادا کردیا ۔ خصوصا ایک مشہور غزل “کوئی ہم نفس نہیں ہے ؛ کوئی رازدان نہیں“ انہوں نے ایک نئے انداز سے گائی اور خوب داد سمیٹی ۔

بہرحال اس نئے اور نوجوان امانت علی میں اتنا ٹیلنٹ ہے کہ وہ پاکستان کو موسیقی میں کھویا ہوا مقام دلاسکے ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فلم اور موسیقی کے حوالے سے انتہائی درجے کا زوال آگیا ہے جسے اس طرح کے نوجوان بہتر طریقے سے ختم کرسکتے ہیں ۔ ہمیں چاہیئے کہ امانت کو سپورٹ کریں ۔ امانت فلمی موسیقی اور غزل گائیکی دونوں میں یکساں طور پر کامیاب ہوسکتے ہیں ۔

میں نے اس پروگرام میں اس کی گائی ہوئی غزل “ہنگامہ ہے کیوں برپا“ پانچ چھ مرتبہ سنی ہے ۔ اس کے ساتھ میں نے یہ غزل استاد غلام علی سے بھی سنی ، جنہوں نے اسے اوریجنلی گایا ہوا ہے ، اور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ امانت نے کافی بہتر گایا ہے ۔ اس نے نقل نہیں اتاری بلکہ مختلف گایا ہے اور اتنا اچھا گایا کہ موقع پر موجود غزل گائیکی کے لیجنڈ جگجیت سنگھ نے کہہ دیا کہ دل خوش ہوگیا ۔ جگجیت سنگھ نے امانت سے عمر پوچھی ، جواب آیا “انیس سال“ تو جگجیت گویا ہوئے “انیس سال کے عمر میں یہ حال تو آپ بڑے ہوکر کیا بنوگے“ ۔ اس مطلب یہی ہے کہ فن کے اساتذہ امانت سے مطمئن ہیں اور یہی بڑی بات ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس امانت کی بے قدری نہ کی جائے ۔



Free Web Hosting